around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 29°⛅ لاہور 24°☀ اسلام آباد 19°
پاکستان

ایف آئی اے کا بڑا آپریشن: 16 سال سے مفرور انسانی اسمگلر منڈی بہاء الدین سے گرفتار

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی نے کارروائی کرتے ہوئے 16 سال سے مطلوب اشتہاری انسانی اسمگلر نور احمد کو منڈی بہاء الدین سے گرفتار کر لیا، ملزم پر ایران اور ترکی کے راستے غیر قانونی ڈنکی روٹس کے ذریعے شہریوں کو یونان بھجوانے میں سہولت کاری کا الزام ہے۔

around.pk·1h ago

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے 16 سال سے مطلوب اشتہاری انسانی اسمگلر کو منڈی بہاء الدین سے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم نور احمد گزشتہ سولہ برسوں سے مفرور تھا اور اس کے خلاف ایف آئی آر نمبر 243/10 کے تحت مقدمہ درج ہے۔

حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ ایران اور ترکی کے راستے غیر قانونی ڈنکی روٹس کے ذریعے شہریوں کو یونان بھجوانے میں سہولت کاری کرتا تھا۔ اس قسم کے غیر قانونی راستے نہ صرف انسانی سمگلنگ کے خطرات کو جنم دیتے ہیں بلکہ متاثرین کی جان و مال کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

اس کارروائی کو ممکن بنانے کے لیے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ندیم ظفر نے اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم کی قیادت انسپکٹر زاہد بھٹی نے کی، جبکہ ٹیم میں اے ایس آئی رفیق اور ہیڈ کانسٹیبل وقاص گجر شامل تھے۔

ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان کے کردار کا تعین دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف آئی اے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے باعث متعدد شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑتی ہیں۔ ایف آئی اے کی یہ کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ سولہ برس پرانے مقدمات میں ملوث ملزمان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق غیر قانونی ڈنکی روٹس کے ذریعے بیرون ملک جانے والے افراد کو اکثر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں حراست، استحصال اور حتیٰ کہ جان کا خطرہ بھی شامل ہے۔ اس لیے قانونی طریقہ کار اپنانا ہی محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں