around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 26°
پاکستان

پنجاب میں تین سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف، جدید ویڈ ورکنگ سینٹر قائم ہوگا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اسکل ڈویلپمنٹ کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، تین سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی تربیت، جدید ویڈ ورکنگ سینٹر آف ایکسی لینس اور 13 زبانوں کی تعلیم کا فیصلہ کیا گیا۔

around.pk·1h ago

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جاری اسکل ڈویلپمنٹ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی گئی۔ اجلاس میں اگلے تین سال کے دوران مجموعی طور پر دس لاکھ نوجوانوں کی فنی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا تاکہ صوبے میں ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دیا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق پنجاب میں پہلا جدید ویڈ ورکنگ سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مرکز میں فنی تربیت، امتحانات کی ڈیجیٹلائزیشن، آن لائن رجسٹریشن پورٹل، ڈیجیٹل امتحانی پرچے اور کیو آر کوڈ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ڈیجیٹل امتحانی نظام کے ذریعے دو لاکھ سے چھ لاکھ امیدوار امتحانات میں شرکت کر سکیں گے۔

اجلاس میں زراعت اور ہیوی مشینری آپریٹر سرٹیفکیشن پروگرام شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ الیکٹریکل، وہیکل اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں کے لیے سنٹر آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ لینگویج لرننگ پروگرام کے تحت تیرہ زبانوں کے کورسز کرائے جائیں گے۔

صوبے میں پہلی کلینگ اینڈ کلینر اکیڈمی قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ پی سی سی اے کے تحت کلینگ سپورٹ، ہیلتھ کیئر، ہاسپٹلٹی، ڈومیسٹک ہیلپ اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے ٹیکنیکل کالج سے تربیت یافتہ الیکٹریشن نے 48 ورلڈ اسکل شنگھائی مقابلوں میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک چار لاکھ نوجوانوں کی اسکل ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے جن میں سے پینتالیس فیصد سے زائد برسرروزگار ہیں جبکہ بیشتر نے تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ اسکل ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تحت تربیت مکمل کرنے والے پونے دو لاکھ نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور 38 ہزار سے زائد نوجوانوں نے بیرون ملک ملازمت حاصل کی۔

شعبہ جاتی اعداد و شمار کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ایک لاکھ تیرہ ہزار سے زائد طلبہ کی تربیت مکمل ہوئی جن میں سے پچاس ہزار سے زائد کو فوری روزگار ملا۔ آئی ٹی سیکٹر میں ایک لاکھ گیارہ ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت ہوئی جن میں سے تقریباً پچاس ہزار باعزت روزگار کمانے لگے۔ زراعت اور لائیو اسٹاک، کنسٹرکشن، انرجی، ہاسپٹلٹی اور ٹورازم کے شعبوں میں بھی ہزاروں نوجوانوں کی تربیت مکمل ہوئی اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم ہوئے۔

بریفنگ کے مطابق تربیت مکمل کرنے والے مجموعی طور پر نوے ہزار سے زائد افراد مقامی صنعت میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ ترپن ہزار سے زائد نے خود روزگار اپنایا، اڑتیس ہزار سے زائد نے بیرون ملک ملازمت حاصل کی اور انتیس ہزار سے زائد نے تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ دیہات میں خواتین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کے پروگرام کے تحت تین ہزار خواتین گھر بیٹھے روزگار کمانے لگی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پندرہ ہزار سے زائد اساتذہ اور عملے کو صنعت، مینجمنٹ، تدریس اور اسکلز اپ گریڈیشن کی تربیت دی گئی۔ دو سو بیس کمپیوٹر لیبز، سو انڈسٹریل سلائی لیبز، ستر سولر لیبز، ستائیس ہیلتھ کیئر لیبز، وی آر ویلڈنگ لیب اور الیکٹرک وہیکل لیب کو اپ گریڈ کیا گیا۔ ماہر پروگرام کے تحت لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ملتان کے صنعتی کلسٹرز میں پچیس ہزار نوجوانوں کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

گلوبل روزگار پروگرام کے تحت بی پی او سیکٹر میں پچیس ہزار نوجوانوں کی تربیت کا ہدف ہے جبکہ ایڈوانس ٹیک پروگرام کے تحت سات ہزار پانچ سو نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن دیا جائے گا۔ دو اعشاریہ چھ ارب روپے کے ہریالی پروگرام کے تحت زراعت اور گرین انوائرمنٹ میں بیس ہزار نوجوانوں کی تربیت کی جائے گی۔ پہچان اینڈ امید پروگرام کے تحت دو ہزار چار سو چوہتر خواجہ سراؤں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے جبکہ امید پروگرام کے تحت دس ہزار خصوصی افراد کو تربیت دی جائے گی۔ ٹیوٹا کے انہتر اداروں میں یورپی کوالیفیکیشن فریم ورک کے مطابق سالانہ پینتالیس ہزار سات سو نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں