around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

آسان رجسٹریشن اسکیم کی ناکامی: صرف 1750 دکاندار ٹیکس نیٹ میں شامل، ایف بی آر نے کارروائی کا فیصلہ کر لیا

وفاقی حکومت کی جانب سے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے شروع کی گئی آسان رجسٹریشن اسکیم ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے بعد ایف بی آر نے اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

around.pk·1h ago

وفاقی حکومت کی جانب سے خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعارف کرائی گئی آسان رجسٹریشن اسکیم کی ناکامی کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نے رجسٹریشن کروائی ہے، جبکہ محکمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکیم کے ذریعے صرف 220 نئے دکاندار ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے ہیں۔ حکومت نے خوردہ فروشوں کی اس اسکیم سے 50 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایف بی آر نے ملک بھر میں خوردہ شعبے کے 36 لاکھ ممکنہ نان فائلرز کی نشاندہی کی ہے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مارکیٹوں کی جیوٹیگنگ کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ جرمانے کے شیڈول کے مطابق ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کو غیر رجسٹرڈ دکانداروں کی دکانیں سیل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

واضح رہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔ اکتوبر تک ایف بی آر کو 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایف بی آر چار ماہ کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی حاصل نہیں کر سکا اور 96 ارب روپے کی کمی کا انکشاف ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق آسان رجسٹریشن اسکیم کی ناکامی حکومت کی ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ خوردہ شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اعتماد سازی، آسان طریقہ کار اور موثر نگرانی کے ساتھ ساتھ تاجروں کو مراعات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ صرف جرمانوں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں ٹیکس وصولی کے اہداف مسلسل متاثر ہو رہے ہیں اور حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے ریونیو میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ ایف بی آر کی توجہ اب اسکیم کی ناکامی کے بعد سخت کارروائی اور نگرانی پر مرکوز ہے، جس کے اثرات ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں پر پڑ سکتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں