around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

قائداعظم کا سب سے بڑا سیاسی کارنامہ: میثاق لکھنؤ اور 1925ء کا بدلتا ہوا عالمی منظر

قائداعظم محمدعلی جناح کے سیاسی سفر میں میثاق لکھنؤ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 1925ء میں جب خلافت کا خاتمہ ہوا اور دنیا معاشی بحران سے گزر رہی تھی، برصغیر کی سیاست بھی نئی سمتوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔

around.pk·51m ago

قائداعظم محمدعلی جناح نے 1916ء میں جب میثاق لکھنؤ کو ممکن بنایا تو یہ اُن کے سیاسی کیریئر کا ایک نمایاں کارنامہ تھا۔ اُس وقت وہ آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما تھے، اور اس معاہدے نے ہندو مسلم سیاسی قوتوں کے درمیان مشترکہ مفاہمت کی بنیاد رکھی۔ بعدازاں 1920ء میں اُنہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی، مگر لکھنؤ کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتی گئی۔

1924ء میں مصطفی کمال پاشا کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کے خاتمے نے برصغیر کے مسلمانوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا۔ مسلمان حجاز مقدس کو اپنی عالمی وحدت کا مرکز سمجھتے تھے، جبکہ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور اُن کی والدہ بی اماں کی تحریک خلافت مسلمانوں کے جذبات کی ترجمان بنی۔ اس تحریک کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی جی بھی عدم تعاون کی مہم کے ذریعے کھڑے ہوئے۔

دوسری جانب عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادی ممالک کو بھاری اخراجات کا سامنا تھا، جس سے آمدنی میں کمی، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔ جرمنی پر عائد معاہدہ وارسائی کے نتائج بھیانک ثابت ہوئے؛ 1914ء میں جہاں ایک امریکی ڈالر سوا چار جرمن مارک کے برابر تھا، وہیں 1923ء میں یہی ڈالر 4.2 ٹریلین جرمن مارک تک پہنچ گیا۔ دسمبر 1923ء میں جرمنی میں ایک انڈے کی قیمت 320 ارب مارک تک جا پہنچی۔

1925ء تک دنیا کی سیاسی فضا بدل چکی تھی۔ سوویت یونین میں لینن کے انتقال کے بعد اسٹالن کی گرفت مضبوط ہو رہی تھی، جرمنی میں قوم پرستی شدت اختیار کر رہی تھی، اٹلی میں مسولینی کی آمریت قائم ہو چکی تھی، اور ہٹلر کی 'میری جدوجہد' کی پہلی جلد شائع ہو چکی تھی۔ اسی سال برصغیر میں آر ایس ایس اور کمیونسٹ پارٹی کا قیام بھی عمل میں آیا، جبکہ دوسری طرف کانگریس ایسی واحد سیاسی جماعت تھی جس کے رہنماؤں کو عالمی سطح کی ان تبدیلیوں کا گہرا ادراک تھا۔

قائداعظم اور علامہ محمد اقبال ایسے مسلمان رہنما تھے جنہیں ابھرتے ہوئے عالمی و علاقائی مسائل کی مکمل سمجھ تھی۔ برطانوی حکومت نے 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ ووٹ کے مطالبے کو 1909ء کی منٹو مارلے اصلاحات کے ذریعے تسلیم کیا، لیکن ہندو اکثریت اسے جبری قانون سمجھتی رہی۔ قائداعظم نے میثاق لکھنؤ کے ذریعے اسی مطالبے کو جمہوری بنیادوں پر مشترکہ ہندوستان کا مشترکہ موقف بنانے کی کوشش کی، جو اُن کی سیاسی بصیرت کا واضح ثبوت تھا۔

اُس دور میں برصغیر کے مسلمانوں میں شرح خواندگی محض آٹھ سے نو فیصد تھی، اور علمی و سماجی شعور کے لحاظ سے وہ مغربی معاشروں سے کافی پیچھے تھے۔ سرسید احمد خان کے علی گڑھ کالج اور دیوبند مدرسے نے تعلیمی میدان میں توازن پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی، مگر تناسب کے اعتبار سے فرق برقرار رہا۔ اسی پس منظر میں 1924ء میں کوہاٹ کے فسادات نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی نزاکت کو بے نقاب کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی کتنی اہم تھی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں