around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

ایران: امریکا سے قطر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، براہ راست بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم امریکی نمائندوں سے براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔

around.pk·40m ago

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے اپنی تجاویز پر قطر کی ثالثی میں سفارتی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن امریکی نمائندوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیان ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر غیررسمی گفتگو میں سامنے آیا۔

انہوں نے بتایا کہ قطری وفد کے حالیہ دورہ تہران کے بعد ایران کے ایک سینئر سفارت کار مذاکرات جاری رکھنے کے لیے دوحہ گئے ہیں۔ عراقچی کے مطابق امریکی وفد سے کوئی ملاقات نہیں ہو رہی اور نہ ہی ایسی کوئی ملاقات طے ہوئی ہے، ایران اس وقت ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے، جس پر تہران نے قطر کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کی شرائط مان لی جائیں تو اس منصوبے پر محض دو دن میں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطری وفد نے دوحہ روانگی سے قبل تہران میں مشاورت کی، جس کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے قطر گئے ہیں اور وہاں سے واپسی جلد متوقع ہے۔ عراقچی کے مطابق کسی معاہدے تک پہنچنے یا نہ پہنچنے کا انحصار ان کئی سوالات کے جوابات پر ہے جو ابھی موصول نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے سفارت کاری جاری رہے گی اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی دیگر آپشنز کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے گا، تاہم ایران ہر صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور گزشتہ دو جنگوں کے تجربے سے مزید مضبوط ہو چکی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تنازع کے حل کا انحصار واشنگٹن کے اگلے فیصلے پر ہے اور یہ امریکا کی اپنی دانش پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت کا اثر عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ اس تناظر میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں