ایف بی آر اکتوبر کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، 116 ارب روپے کی کمی کا امکان
فیڈرل بورڈ آف ریونیو اکتوبر کے مہینے میں مقرر کردہ ایک ہزار 131 ارب روپے کے ٹیکس ہدف سے پیچھے رہ گیا، اب تک صرف 975 ارب روپے جمع ہوسکے اور ہفتے کی اضافی وصولیوں کے بعد بھی تقریباً 116 ارب روپے کی کمی متوقع ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اکتوبر کے مہینے کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولی کا ہدف مکمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اس ماہ ایک ہزار 131 ارب روپے وصول کیے جانے کا ہدف طے کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف 975 ارب روپے ہی جمع ہوسکے ہیں، جس سے ہدف کے مقابلے میں 156 ارب روپے کی کمی ظاہر ہو رہی ہے۔
ایف بی آر کے حکام کو توقع ہے کہ ہفتے کے روز مخصوص ٹیکس دفاتر اور بینک برانچیں کھلی رہنے کی وجہ سے مزید تقریباً 40 ارب روپے کی وصولی ممکن ہوسکتی ہے۔ تاہم ان اضافی وصولیوں کے بعد بھی اکتوبر کے ماہانہ ہدف میں تخمیناً 116 ارب روپے کی کمی رہنے کا امکان ہے۔
ٹیکس ہدف سے پیچھے رہنے کا یہ رجحان حکومت کے مالیاتی منصوبوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ محصولات کی وصولی براہ راست وفاقی بجٹ کی ضروریات اور مالی خسارے کو پورا کرنے کی صلاحیت سے جڑی ہوتی ہے۔ ماہانہ ہدف کی مسلسل کمی سے سالانہ محصولات کے مجموعی ہدف پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق محصولات کی وصولی میں کمی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں معاشی سرگرمیوں کی رفتار، درآمدات کی صورت حال اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر شامل ہیں۔ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ آئندہ ماہ کے اہداف کے تعین اور مالیاتی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ محصولات کی بروقت وصولی حکومت کی مالیاتی استحکام اور ترقیاتی اخراجات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ ایف بی آر پر یہ دباؤ برقرار رہے گا کہ وہ آئندہ مہینوں میں ہدف کی مکمل تکمیل کے لیے وصولیوں کو تیز کرے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرے۔









