around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 26°
کاروبار

ایل پی جی ایسوسی ایشن کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال اور فروخت بند کرنے کا اعلان

حکومت کے نئے پرائسنگ فارمولے کے خلاف ایل پی جی مارکیٹرز کی مشترکہ ہڑتال، 16 نومبر سے ملک بھر میں مائع پیٹرولیم گیس کی فروخت معطل رکھنے کا فیصلہ، قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد اضافے کا خدشہ

around.pk·4h ago

پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شعبے میں کام کرنے والی ایسوسی ایشنز نے حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے لیے متعارف کرائے گئے نئے فارمولے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشنز کے مطابق یہ ہڑتال 16 نومبر سے شروع ہوگی جس کے دوران ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت مکمل طور پر بند رکھی جائے گی۔

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے حکومتی پرائسنگ فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس میں مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے طریقہ کار کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق 16 نومبر سے ملک گیر سطح پر ایل پی جی کی فروخت معطل رہے گی۔

علی حیدر کا کہنا ہے کہ حکومتی فارمولے کے نفاذ کی صورت میں ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر پڑے گا۔ اسی وجہ سے ایسوسی ایشنز نے اس طریقہ کار کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور احتجاج کے طور پر فروخت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایل پی جی خاص طور پر ان علاقوں میں پکوان اور گھریلو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے جہاں قدرتی گیس کی پائپ لائن دستیاب نہیں، جبکہ تجارتی ادارے بشمول ہوٹل اور ریستوران بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں طویل ہڑتال کی صورت میں صارفین کو متبادل ایندھن کی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور ایسوسی ایشنز کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 16 نومبر کے بعد ایل پی جی کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خطرہ ہے۔ اس حوالے سے حکومتی حکام کی جانب سے ابھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین حکومت کے مقرر کردہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور مارکیٹرز کا کہنا ہے کہ نیا فارمولا ان کے کاروباری اخراجات اور صارفین کی استطاعت کو مدنظر نہیں رکھتا۔ اس تنازعے کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان جلد مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ایندھن کی فراہمی میں خلل نہ پڑے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں